بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || حکمت الٰہیہ کے آئینے میں، جسم اور روح دونوں قیمتی امانتیں ہیں جن کی حفاظت کے لئیے مضبوط پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔ خدائے مہربان نے وجود کے ان موتیوں کی حفاظت کے لئے، آسمانی بیموں کا ایک نظام قائم کیا ہے: صدقہ، روزانہ تحفظ کی چھتری؛ جمعہ کی دوپہر "قل ھوا اللہ احد" کی نماز (= نمازِ جعفرِ طیّار)، ہفتہ وار محفوظ قلعہ؛ مہینے کے پہلے دن کی دعائیں اور صدقہ، ایک مہینے کی دفاعی ڈھال؛ زکوٰۃ فطرہ اور نمازِ عید، سالانہ حفاظتی مورچہ؛ اور [اولاد کی پیدائش پر] عقیقہ، زندگی بھر کی حفاظتی ڈھال ہے اور "آیت الکرسی" اور "چار قُل" آہنی ڈھال کی مانند روح و جان کو فطرت کے شدید طوفانوں سے محفوظ کر دیتے ہیں۔
لیکن اس سے زیادہ گہری حقیقت یہ ہے کہ 'روح کی سلامتی' کا خزانہ 'جسمانی صحت' سے زیادہ اہم اور بڑا ہے۔
انسانی روح کو تین سنگین خطرات کا سامنا ہے:
1۔ اضطراب [بے چینی اور گھبراہٹ] کا طوفان جو امن کو چھین لیتا ہے؛
2۔ انحراف اور گمراہی کا بھنور جو راستے کو تاریک کر دیتا ہے؛ اور
3۔ زوال کا گڑھا جو وقار و عزت کو برباد کر دیتا ہے۔
ان اندرونی طوفانوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک ابدی پناہ گاہ فراہم کی ہے: دین اسلام، کتاب اللہ 'قرآن'، عترت طاہرہ 'اہل بیت (علیہم السلام)'، اور ولایتِ الٰہیہ۔
اس آسمانی پناہ میں داخل ہونے کے لئے تین سنہری کنجیوں کی ضرورت ہے:
1۔ "استعاذہ"، جو اللہ کے فضل کے سائے میں پناہ لینے سے عبارت ہے: "أعوذ بِاللَّهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ"۔
2۔ "استعانت"، جو اللہ کی لامتناہی طاقت سے مدد مانگنا ہے: "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ۔ اور
3۔ "استغفار"، جو دل سے گناہوں کا زنگ اور دھندلا پن زائل کر دیتا ہے: "أَسْتَغْفِرُ ٱللَّٰهَ رَبِّي وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"۔
اس راستے پر "اعتقاد" اور "اعتماد" میں فرق ہے۔ "اعتقاد" وہ یقین ہے جو انسان کے ذہن میں ہوتا ہے، لیکن "اعتماد" بھروسہ ہے، جس کی رو سے انسان اپنا پورا وجود اللہ کے سپرد کردیتا ہے۔ اس کی مشیت (ارادے اور مرضی) کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور پورے وجود سے اس کے وعدوں پر یقین کامل رکھنا۔
قرآنی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ "جب آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے گلزار بن گئی، جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دریائے نیل کے پانیوں میں چھوڑ دیا گیا؛ جب سمندر ان کو بچانے کے لئے شگافتہ ہؤا؛ جب زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں بیٹے کی خوشخبری ملی؛ اور جب مریم (سلام اللہ علیہا) نے بغیر شوہر کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو گلے لگایا؛ یہ سب اللہ کی کی لامتناہی طاقت کی واضح نشانیاں تھیں، ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اس پناہ گاہ میں پناہ لی تھی۔
اور کتنے باعث سکون و اطمینان ہیں یہ مقدس اذکار:
• "اللہ اکبر" (تکبیر) کہنا اور اللہ بڑائی بیان کرنا، جس کی برکت سے بڑی مشکلیں چھوٹی اور ناچیز ہوجاتی ہیں؛
• "الحمد للہ"، (تحمید) یعنی تمام تر تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور الحمد للہ کہنا یعنی نعمتوں پر اللہ شکرگزاری ہے اور برکتوں کا باعّ بنتا ہے؛ اور
• "سبحان اللہ"، (تسبیح) یعنی پاک و مُنَزَّہ ہے اللہ کی ذات با برکات؛ اور تسبیح جس کے ذریعے تسبیح روح کو صَیقَل (جِلا) دیتی ہے۔
جو کوئی اس محفوظ پناہ گاہ کے سائے میں آتا ہے وہ گہرا سکون حاصل کرتا ہے، سقوط و انحراف سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور ایک ثابت قدم اور ناقابل تسخیر روح کا مالک بن جاتا ہے۔ اولیاء اللہ نے اسی اعتماد کے سائے میں سخت ترین بحرانوں کو برداشت کیا اور آزمائشوں کی چوٹیوں پر ثابت قدم رہے۔
اے اللہ! ہمیں اپنی ذات پر سچا اعتماد اور بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرما، ہماری روحوں کو قرآن اور اہل بیت (علیہم السلام) کی پناہ میں محفوظ اور صحت مند رکھ، اور امام زمانہ (علیہ السلام) کو جلد از جلد آخری کشائش اور فراخی عطا عطا فرما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد مہدی ماندگاری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ